بھٹکل:15؍ فروری (عاسل شاہ بندری / ایس اؤ نیوز) ایک طرف ملک بھر میں حجاب کو لے کر معاملہ گرم ہے اور گودی میڈیا حجاب کی مخالفت میں باحجاب طالبات کے حجاب اُتارتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف غیر مسلمانوں کو اشتعال دلانے میں مصروف نظر آرہا ہے تو وہیں بھٹکل میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں آپسی بھائی چارگی اور اخوت کو فروغ دینے کی کوششیں بھی سامنے آرہی ہیں۔
ہر سال کی طرح امسال بھی 14 فروری کو ماہی گیروں نے اپنی بوٹوں پر بلا مذہب و ملت لوگوں کے لئے نیترانی جزیرہ کی سیرکرانے کا پروگرام منعقد کیا تھا، جہاں ماہی گیر بوٹ مالکان کی جانب سے بھٹکل بندر پہنچنے والوں کو مفت میں نیترانی جزیرہ لے جانے اور واپس لانے کا انتظام کیا گیا تھا، ساتھ ساتھ نیترانی جانے والوں کے لئے بوٹ مالکان کی جانب سے کھانے پینے کا بھی مناسب انتظام کیا گیا تھا۔
پتہ چلا ہے کہ اس سے قبل 15 سے زائد بوٹوں کو نیترانی جزیرہ جانے کی اجازت دی جاتی تھی، مگر اس بار کووڈ گائیڈلائن کے تحت صرف آٹھ بوٹوں کو اجازت دی گئی جس پر سوارہوکر کم و بیش 300 مسلمانوں کے بشمول قریب ایک ہزار لوگوں نے نیترانی جزیرہ پہنچ کر حسین قدرتی مناظر کا بھرپور لطف اُٹھایا۔
صبح سات بجے بحر عرب کے نیلے سمندر سے گذرتے ہوئے سیاح خوبصورت قدرتی مناظرسے بے حد محظوظ ہوئے۔ نیترانی جزیرہ کے قریب پہنچنے کے بعد بوٹ سے اُتار کر لوگوں کو چھوٹی کشتیوں پر سوار کرایا گیا اورجزیرہ کے کنارے پہاڑی سے لگ کر لوگوں کو اُتارا گیا۔ جہاں سے پہاڑ کی بلندی پر چڑھنے کا تجربہ بھی کافی تفریح بخش تھا۔ جزیرہ پر پہنچنے کے بعد ایک طرف ماہی گیر برادری نے نیترا پر موجود ایک چھوٹے سے مندر میں پوجا پاٹ کی تو وہیں مسلمانوں نے جزیرہ پر پہچنے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی۔
نیترانی جزیرہ بھٹکل بندر سے قریب 25 کلو میٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔ عالمی سطح پر مشہور حیاتی تنوع کا مرکز ، نیترانی جزیرہ کے اطراف سمندر کا پانی نیلا اور بے حد خوبصورت نظر آتا ہے۔ بھٹکل کے عوام کے ساتھ ساتھ مرڈیشور، ہوناور، سرسی، گوکرن، اُلال وغیرہ علاقوں سے بھی کافی لوگ اس پکنک میں شریک ہوئے تھے۔
دوپہر قریب تین بجے نیترانی جزیرہ سے لوگوں کی واپسی ہوئی، اس موقع پرایک بوٹ کے مالک گوپال موگیر نے بتایا کہ ہمارے ہاں ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں ہے، ہم آپسی میں بھائی چارگی کے ساتھ رہتے آرہے ہیں، ہر سال ہم بوٹ مالکان کی جانب سے نیترانی کا پروگرام بناتے ہیں اورہمارے ساتھ ہمارے مسلمان بھائی بھی کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی اور جے ڈی ایس لیڈر عنایت اللہ شاہ بندری نے بتایا کہ یہ ایک یادگار سفر تھا جہاں ذات پات، دھرم وغیرہ کی تفریق کئے بغیر ہم سب نیترانی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں صدیوں سے ہندو مسلم مل جل کر رہتے آرہے ہیں، لیکن ہم لوگوں کو ایک ساتھ مل بیٹھنے کے مواقع کم ہی ملتا ہے، انہوں نے ہندو۔مسلم بھائی چارگی کو فروغ دینے کے لئے اس قسم کے پروگراموں کو الگ الگ پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد کئے جانے کی ضرورت پر زوردیا۔ نیترانی جزیرہ پر عوام کے سفر کو دیکھتے ہوئے کوسٹل سکیورٹی پولس کی طرف سے حفاظت کا مناسب بندوبست کیا گیا تھا۔